28 اگست 2016 - 05:46
حکمران اگر ملک بچانا چاہتے ہیں تو بیلنس پالیسیاں چھوڑ دیں. ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی

فصلیں پک چکی ہیں اور اب کٹائی کا موسم ہے. اور اتنا بڑا قدم حکمرانوں کیلئے محب وطن عوام کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں. اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہر خائن کا احتساب ہو. قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زمہ داران کیا نہیں دیکھ رہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کار اور ملک دشمن عناصر حکومتی مشینری کا حصہ ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل و سیکرٹری امور خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہماری اسٹبلشمنٹ کے پالے ہوئے مذہبی اساسے ہوں یا سیاسی، قومی ہوں یا لسانی سب کے سب ایکسپوز ہو چکے ہیں. اور انکی وطن دشمنی اور قومی سرمایہ کی لوٹ مار اور بیگناہ عوام کی بے دریغ قتل وغارت اور دشمن ممالک کی ایجنٹی اور عدالت وانصاف کے قتل  کی داستانیں کھل کر  پوری قوم کے سامنے آ چکی ہیں.
فصلیں پک چکی ہیں اور اب کٹائی کا موسم ہے. اور اتنا بڑا قدم حکمرانوں کیلئے  محب وطن عوام کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں. اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہر خائن کا احتساب ہو. قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زمہ داران کیا نہیں دیکھ رہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کار  اور ملک دشمن عناصر  حکومتی مشینری کا حصہ ہیں اور بعض اعلی سیاسی مناصب اور حکومتی عہدوں پر فائز ہیں. ہونا تو یہ چاہییے تھا کہ ان مگر مچھوں پر ھاتھ ڈالا جاتا اور قانون کو نافذ کرنے والے پسی ہوئی مظلوم عوام کو ریلیف دیتے. ہمارے اداروں اور نیشنل ایکشن پلان کی ڈائریکشن با اثر لوگوں نے تبدیل کر دی ہے اور آج وہ محب وطن عوام کو ستانے میں مصروف ہیں.کبھی علماء کو اذیت دی جاتی اور کبھی تنظیمی کارکنان کو اور اسی طرح  زائرین ومسافرین سے معاندانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور انھیں لوٹا جاتا ہے.
حقیقی دھشتگردوں کو چھوڑ کر فرضی دھشت گرد پکڑے جا رہے ہیں.  بے بنیاد اور تعصب کی بنا پر جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں اور پھر 90 دن مسلسل  انھیں اور انکے غریب خاندانوں کو اذیت دینے کے بعد ثبوت نہ ملنے پر مجبورا  بری کر دیا جاتا ہے لیکن اسٹیٹ کی رٹ کو چیلنج کرنے والے اور مقتدر اداروں کے سربراہان کو دھمکیاں دینے والے پاکستان مردہ باد کہنے والے اور ملک توڑنے کے لئے انڈیا سےبروابط کرنے والے اور شہر شہر قتل وغارتباور دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے اور انکی برملا حمایت اور مدد کرنے والے آزاد پھرتے ہیں.
بیگناہ عوام کو بیجا تنگ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور با اثر  محب وطن افسران اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں. کہ ہمارے بیگناہ تمام علماء کرام و کارکنان  بالخصوص مجلس وحدت مسلمین  شعبہ قم کے مسؤول علامہ عقیل حسین خان  جو تقریبا ڈیڑھ ماہ سے اداروں کی تحویل میں ہیں انھیں  فی الفور رہا کریں.  اور پورے ملک بالخصوص پنجاب میں شیعہ اور سنی جماعتوں کے کارکنان اور بانیان مجالس عزاء کے خلاف بنائے گئے کیسسز واپس لئے جائیں  اور تعصب و  سیاسی  انتقام کے تحت جو نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے انھیں خارج کیا جائے۔  اور مذہبی و  شخصی آزادیوں پر عاید پابندیاں اٹھا کر عوام کو سکھ کا سانس لینے دیا جائے۔
وطن عزیز جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس وقت عوام کو اسٹیٹ سے متنفر کرنا اور مایوس کرنا ملک دشمن قوتوں کی خدمت ہو گی. حکمران اگر ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے مخلص ہیں تو انھیں بیلنس پالیسی ترک کرنا ہوگی. مخلص اور محب وطن عوام کی حمایت اور پشت پناہی کے ساتھ ھی وطن کے خائن عناصر کا خاتمہ ممکن ہے. اور اب ان جنایتکاروں اور خیانتکاروں کا مقابلہ کرنا اور وطن کی حفاظت کرنا ہر غیرتمند پاکستانی پر فرض ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲